Ticker

6/recent/ticker-posts

سندھ کے یوٹیوبر، کامیڈئن اور گلوکار اصغر کھوسو کی بایوگرافی

سندھ کے ئوٹیوبر، کامیڈئن اور گلوکار اصغر کھوسو کی بایوگرافی

 اصغر کھوسو سہنی سندھ کے ایک کامیڈین ، گلوکار، اداکار اور سوشل میڈیا اسٹار ہیں ۔ اسے فیس بوک ، یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا ٹولز کے ذریعے شہرت ملی ۔

اصغر کھوسو نے ایک غریب شخص کے گھر میں اپنی آنکھیں کھولی ۔ ان کے والد محکمہ زراعت میں نائب قاصد  کے طور پر ملازمت کیا کرتے تھے ۔ اس کے والد کے پاس اتنی رقم نہیں ہوتی تھی کہ وہ اصغر کھوسو کو تعلیم دلوا سکے، اس لئے انہوں اپنی ابتدائی تعلیم بھی مکمل نہیں کی اور وہ ناخواندہ ہے ۔ اصغر کھوسو جب بارہ سال کے ہوئے تو ان کے والد  فوت ہوگئے ۔

اصغر کھوسو نے بہت سے دکھ دیکھے ہیں اور زندہ رہنے کے لئے بہت جدوجہد کی ہے ۔ ابتدائی دنوں میں وہ بہت غریب تھے اور ہوٹلوں میں ویٹر کی حیثیت سے کام کرتا تھے۔ بعد میں انہوں نے گاڑیاں اور کاریں دھلانی کرنا شروع کیں جہاں سے انہوں نے کار چلانا بھی سیکھا ۔ وہ مختلف اسکولوں ، کالجوں اور بازاروں میں کھانے کو بھی فروخت کیا کرتے تھے ۔

2010 کے سیلاب کے بعد اپنا آبائی شہر چھوڑ کر جامشورو شہر منتقل ہو گئے ۔ لیکن اس کے پاس اپنے اہل خانہ کے رہنے کے لئے مکان کا کرایہ ادا کرنے کے لئے پیسے بھی نہیں تھے،  جس وجہ سے وہ اپنے رشتہ دار کی زیر تعمیرگھر میں رہنے لگے جہاں پر وہ بیوی، بچوں سمیت پتھروں پر سویا کرتے تھے۔

اس کی بیوی فالج کی مریضہ تھی اور وہ گھوم پھر نہیں کرسکتی تھی ۔ جس وجہ سے اصغر کھوسو اسے ہاتھوں پر لے جاتے اور اسے لوکل گاڑیوں میں بٹھا کر کراچی سے علاج کروایا کرتے تھے ۔ اصغر کھوسو کا ایک بیٹا دمہ کا مریض ہے جس کا حیدرآباد شہر کے اسپتالوں سے علاج کروایا کرتے ۔ اس کی والدہ بھی ذیابیطس کی مریضہ تھیں اور ان پر منحصر تھیں ۔ لیکن اس نے مشہور مزاح نگار بننے کے لئے اپنی جدوجہد ترک نہیں کی اور ہمیشہ اپنی صلاحیتوں کو تلاش کرنے کی کوشش کی ۔

انہیں بچپن سے ہی اسٹیج شوز میں کامیڈین اداکاری کرنے کا شوق تھا ۔ جس کو پورا کرنے کے لئے وہ اپنے ساتھیوں ، رشتہ داروں اور پڑوسیوں سے 2 سے 5 روپے مدد لے کر اسٹیج شوز کا اہتمام کیا کرتے تھے ۔ اس طرح کے رویوں پر ان کے دوستوں اور رشتہ داروں نے ان پر بہت تنقید بھی کی ۔ مزید وہ یوم آزادی ، عید یا شادی کی تقریبات کے مختلف پروگراموں میں شوز کا اہتمام کرتے تھے ۔ ایک انٹرویو کے دوران اصغر کھوسو نے اپنے ابتدائی دنوں کا ایک واقعہ شیئر کیا کہ اس نے اپنے آبائی آبائی شہر کے کالج میں ایک پروگرام کے انعقاد کا اعلان کیا لیکن وہ اس تقریب کے لئے میزیں اور اسٹیج ترتیب دینے کے لئے فنڈز کا بندوبست نہیں کرسکا  جس وجہ اس نے کالج کے گراؤنڈ میں کھڑی ایک خستہ حال بس کی چھت پر سٹیج بنا کر شو شروع کیا۔

ابتدائی طور پر اصغر کھوسو کو ٹی وی چینلز کے ڈائریکٹرز اور شوبز کے دیگر فنکاروں نے نظرانداز کیا ۔ لیکن اس نے اپنی ہمت نہیں ہاری اور اپنے شوق کو پورا کرنے کے لئے ان کے دوست غلام شبیر جمالی نے ان کی مدد کی ، جنہوں نے فیس بک آئی ڈی بنا کر دی جس پراصغر کھوسو نے ایک مزاحیہ ویڈیو بنا کر اپلوڈ کی جو کہ بہت وائرل ہوئی ۔ تب سے انہوں نے زیادہ محنت کرنا شروع کی اور بعد میں انہوں نے ایک فیس بک پیج تیار کیا ، جس کے 14 ملین سے زائد فالوورز ہیں۔ اپنی مہارت کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے یوٹیوب چینل بھی بنایا اور اس پر کام کرنا شروع کیا جس کی وجہ سے انھیں یوٹیوب پر ایک ملین سے زیادہ لوگ فالو کرتے ہیں ۔

ایجوکیشن کے بہت سے ادارے ، شوبز پلیٹ فارم اور دیگر اداروں نے ملیں ہیں ایوارڈز دیئے ہیں ۔ مزید یوٹیوب پر 100،000 سبسکرائبر تک پہنچنے پر ان کو یوٹیوب کی طرف سے سے سلور ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ہے ملا ہے۔ وہ ایک اچھے گلوکار بھی ہیں اور آج تک بہت سے گانے گا چکے ہیں ۔

ہندوستانی گانے  میرے رخشے قمر کی کی دھن پر اصغر کھوسو نے اپنی آواز میں "میرے رکشہ پہ چڑھہ" گایا۔ یہ گانا یوٹیوب ، فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا ٹولز پر بہت مشہور ہوا ۔ اس گانے کو یوٹیوب پر 5000،000 سے زیادہ دیکھا جا چکا ہے ۔ اور اس  گانے کو ہندوستانی لوگوں نے بھی بہت سراہا اور اس کی تشکیل اور شاعری پر بہت تعریف کی ۔

اصغر کھوسو نے سندھی روایتی گانا “ہو جمالو” بھی کو ابھی دھن اور آواز میں گایا ہے ۔ اصغر کھوسو کی شہرت کا سبب یہ گانا بھی بنا،  اور سندھ کے مختلف قومی تقریبات جیسے سندھ کلچر ڈے وغیرہ کے دوران اصغر کھوسو کے ہوجمالو کو بھی سن گیا۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت گیت اس کی شہرت کا سبب بنے۔ انہوں نے ہمیشہ اپنی مزاحیہ اداکاری کے ذریعہ عوام پر مثبت اثرات مرتب چھوڑے ہیں۔

اس کے دو بیٹے حسنین اور عادل ہیں جو حیدرآباد کے ایک اسکول میں پڑھ رہے ہیں ۔

Post a Comment

0 Comments