Ticker

6/recent/ticker-posts

سندھ کے مشہور فنکار مرحوم ماسٹر منظور کی بایو گرافی اور کچھ گیت

master manzoor biography, songs

 

سندھ کے مشہور فنکار ماسٹر منظور جس کی موت کہانی بن کر رہ گئی

سندھ کے ہر دلعزیز فنکار مرحوم ماسٹر منظور سے کون واقف نہیں ہوگا۔ ان کا اصل نام قطر حسین تھا اور اور وہ 8 جولائی 1972 کو مکھنو فقیر کے گھر پیدا ہوئے آپ سندھی ودھیو قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے -ان کا تعلق قمبر شہداد ضلع سے تھا اور موسیقی میں باقاعدہ آنے کے بعد  حیدرآباد کے علاقہ قاسم آباد میں رہائش پذیر ہوئے۔

موسیقی سے تعلق رکھنے والے گھر آنکھیں کھولنے کی وجہ سے ان کو بچپن سے سنگیت سے لگاؤ تھا، اور آٹھ سال ہی کی عمر میں درگاہوں پر گیت گانا شروع کیا ۔ اس وجہ سے انہوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد موسیقی کی طرف ہی زیادہ دھیان دیا۔

آپ سندھہ کے مشہور فنکار استاد منظور حسین سخیرانی بہت زیادہ متاثر تھے اور اکثر اوقات ان کے گیت گن گنایا کرتے تھے۔ وہ میوزک کی تربیت حاصل کرنے کے ساتھ اپنی ایک کیبن چلا کر اپنی ضروریات پوری کیا کرتے تھے۔ آپ نے موسیقی کی تربیت اپنے والد سندھ کے نامور فنکار استاد مکھنو خان سے حاصل کی ۔ ان کی اپنی پہلی البم سنہ 1992 میں جاری ہوئی ۔ اس کے بعد مسلسل گاتے رہے اور ریڈیو اور ٹیلیویژن کے مشہور فنکاروں میں شامل ہوگئے ۔  آپ نے سندھی، اردو اور بلوچی زبانوں میں گانے، غزل اور شادی کے گیت گائے اور اپنی آواز میں مختلف کپنیوں سے 200 البمز جاری کئے۔

مرحوم ماسٹر منظور نے اپنے والدین کی رضامندی سے شادی کی جس سے ان کو 2 بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔

سنہ 22 اپریل 2012 کو ان کی لاش پراسرار طور پر ان کے گھر حیدرآباد سے ملی ۔ ان کے پرستاروں کا کہنا تھا کہ ماسٹر منظور نرم دل اور نہایت ہی اچھے انسان تھے وہ ہنس مکھ اور ہمیشہ ہنسنے مسکرانے والے شخص تھے۔ انہوں نے زندگی کی مشکلاتوں کو کبھی بھی دل اور دماغ کے اوپر حاوی ہونے نہیں دیا جس وجہ سے کوئی بھی شخص ان کی اس پراسرار موت کی وجہ خودکشی ماننے کو تیار نہیں ۔ ان کے موت کی حقیقت کو ابھی تک پولیس بھی نہیں جان سکی اور ان کی موت ایک کہانی بن کر رہ گئی۔  مرحوم ماسٹر منظور کو کراچی کے نزدیک باب حسین قبرستان میں دفن کیا گیا ۔

ان کے کچھ گیت آپ کی خدمت  میں پیش کر  رہے ہیں



 


Post a Comment

0 Comments